Thursday, March 21, 2019

ھholi gazal


پھاگون موسم آیا  پتے جھڑنے لگے
ھولی کا کا دن آیا رنگ گلال لگنے لگے
گرم ہوائیں اور یہ بدلتا رنگ آسمان
گلیوں میں سمت کا  جوالا آج جلنے لگے
بھابھی آئی بھیا آۓ رنگ گلال لاے
سبھی کو ہاتیں رنگ گلال  سےرنگنے لگے
ٹنکو، پپو، سونو، مونو سب  دوڑےآۓ
 بھابھی بھیا کونمن  و   پرنام کرنے لگے 
دادا دادی، نانا نانی ،آج مست دیوانی
سب کے ہاتھ رنگ گلال سے رنگے لگے
نیتا جی ہو،  یا بھیکاری،پنڈت یا  یپٹواری
سبھی آج ، بھانگ رس میں رسنے لگے
 نظر کہ آنکھوں کا یہ رنگا  رنگ منظر
سادر  پرنام !آج  سب گلے لگنے لگے  

irfan jnu 

Thursday, February 14, 2019

روز محبت ROZ E MOHABBAT


روز محبت

آج کہ دن
کیا  تجھے  یہ احساس ہے!
کوئی تجھ سے اب بھی  محبت کرتا ہے
تجھے یاد کرتا ہے
تجھے  یاد کر کے عید کرتا ہے
اور  ترے  غائبانہ میں، اب  بھی  روز محبت مناتا ہے
وہ  زمیں  اور وہ جگہ جہاں تم ملی تھی
اور تم ملا کرتی تھی
کبھی راہ چلتے 
کبھی ہنستے سلام کرتے
شاید تجھے یہ احساس بھی نہ تھا
کوئی  تجھ سے  اتنا محبت کرتا ہے
جہاںترا آشیانہ تھا
اور ترے آشیانہ سے ذرا  ہٹ کر
 کنارے
 میرا بھی  آشیانہ تھا
 میں تجھے چلتے ،مچلتے ،سنورتے
اورکبھی آنچل سنوارتے
دیکھ لیا کرتا تھا
اور تم دکھ ہی جاتی تھی
اور کبھی باتیں کر لیا کرتی تھی
کبھی ساتھ بیٹھ جایا کرتی تھی
 اور وہ دن ! روز محبت
مری دعوت،
سمندر کہ کنارے شام  بتانے کی
 قبول  کرلی تھی
بیتے  جو لمحے مرے،  ترے ساتھ
وہ بھولوں کیسے!
تم بدلی پر میں نہ بدلا
جانو تو
کوئی آج بھی تجھے یاد کرتا ہے
اور ترے غائبانہ میں
تجھے یاد کرکے عید کرتا  ہے
 اور وہ  روز محبت ! 
 یاد کرتا ہے
نظر عرفان


Friday, February 8, 2019

انتظار


انتظار
انتظار، ایک اور  انتظار
آج پھر وہ نہ ملی
آج پھر میں انتظار کرتا رہا
پرندے مجھے دیکھتے رہے
اور میری بیکسی پہ روتے رہے
میں ہر طرف دیکھتا رہا
یہ میری زندگی
انکے لئے
پر وہ سمجھی نہیں
لیکن وہ بےقصور
انکی بھی ہیں مجبوریاں
جو بنیں ہم سے انکی دوریاں
جو میں جانا  اورسمجھی وہ
لیکن وہ کہہ نہ پائی مجھے
یہ پرندے جانتے ہیں
چرند تو آخر چرند!
کیا بتاؤں اسے
محبت اسی کا نام ہے
اسے دولت سے کیا  واسطہ
آج پھر وہ نہ ملی
آج پھر میں انتظار کرتا رہا              ۔۔۔                                                                                                                                                :   " نظرعرفان"


فیض و فراز



کہ دو فیض و فراز سے ہم بھی نظم  لکھتے  ہیں
وہ  صدی تمہاری تھی  یہ صدی  ہماری   ہے


----
سردار نے کہا کیفی سے اٹھ بھائی چل ذرا دیکھ لے 
آمد  ہے اکیسویں صدی شاعر کی میرے شہر میں


---
شاعر انقلاب جوش و فراق آپ کہاں ہو
اس سرزمیں میں ایک اور انقلا ب چاہۓ 

پکار- Pukar



پکار

کشمیر کی وادیاں
اور اس کی پکار
ارے تو کہان ہو !
آئی تھی تو، کچھ دنوں کے لۓ
اس زمین پہ
تو، تو تھی، مثل پرندہ مہمان
محبت تھی تیری فطرت
تجھ مین نہ تھی ذرا سی بھی نزاکت
تیری بھولا پن کو بھولوں کیسے
ارے، تجھے دیکھ کر پرندے بھی رک جاتے
تو، تو تھی یہاں محبت کی شہزادی بن کر
اس زمین کے شہزادے
تجھے دیکھ کر ۔۔۔۔!
ارے! تو بھول گئی
تیرے ایک عید جو یہاں بیتے
یہ زمین تجھے بھو لے کیسے !
کشمیر کی وادیاں
 اور اس کی پکار
ارے تو کہاں ہو !         

عید مبارک


کہاں چلی گئ تو مجھے بدل کے
 واہ ! تو بدل گئ مجھے بدل کے
عقل کا مارا آیا تیرے چالوں میں
 تو کیوں نہ بدلی مجھے بدل کے



عید مبارک
عید سعید عید فطر، ارے  تو  ہے کدھر
عید مبارک ، پر تو  نہ  ادھر   نہ   ادھر
تجھے ڈھونڈھا ہر طرف، پر تو  نہ  ملی
آخر  تجھے پایا بہکی بہکی ذرا  ہٹ   کر
      "نظر عرفان"




Thursday, February 7, 2019

وقت سحر WAQTE SEHAR


وقت سحر

پھر سنوں سحر میں تری صدا
وہ خوبصورت وادیاں
جہاں بیتے تری زندگی کے کچھ حصے
جہاں سے گونجتی ہوئی آتی تھیں تری صدائیں
میرے کانوں میں
ہنستے ہوئے، ہسناتے ہوئے
کبھی سادگی سے مسکرا کر
تری اس صدا میں
پھولوں کی مہک تھی
اورچڑیوں کی چہک تھی
کوئل گیت راگ سہانی
اورتم سناتی اپنے من کی کہانی
محبت سے بھری ہوئی
وہ ماہ رمضان
اور سحرمیں تری یہ صدا
یارا ! اٹھ جا، ہے وقت سحر
وہ دن ہے یاد مجھے
اسے بھولوں کیسے
پراب وہ دن نہیں
 اوروہ بات نہیں
پرمیں چاہوں!
پھر سنوں
سحر میں تری یہ صدا      

  

نظر عرفان