Tuesday, February 5, 2019

انتظار INTEZAR


انتظار
انتظار، ایک اور  انتظار
آج پھر وہ نہ ملی
آج پھر میں انتظار کرتا رہا
پرندے مجھے دیکھتے رہے
اور میری بیکسی پہ روتے رہے
میں ہر طرف دیکھتا رہا
یہ میری زندگی
انکے لئے
پر وہ سمجھی نہیں
لیکن وہ بےقصور
انکی بھی ہیں مجبوریاں
جو بنیں ہم سے انکی دوریاں
جو میں جانا  اورسمجھی وہ
لیکن وہ کہہ نہ پائی مجھے
یہ پرندے جانتے ہیں
چرند تو آخر چرند!
کیا بتاؤں اسے
محبت اسی کا نام ہے
اسے دولت سے کیا  واسطہ
آج پھر وہ نہ ملی
آج پھر میں انتظار کرتا رہا

نظرعرفان


پرندہ مہمان PARINDA E MEHMAN


پرندہ مہمان
آج کا موسم کتنا پیارا
اور یہ چنچل ہوائیں
پر وہ اپنے شہر میں
اورمیں دور!
اپنے شہر میں
چاہوں! میں جاؤں اسکا شہر
پرندہ مہمان بن کر
چپکے سے، بیٹھ جاؤں
 اس کے گھر کے چھت پر
دیکھوں اسکی جادوئی اداؤں کو
سنوں اسکی سریلی باتوں کو
انکی باتوں میں ہے جو نئی سی کشش
مین سنتا رہوں دن بھراور رات بھر
یارو سنو! پروہ ہے تھوڑی بھاری بھر کم
جس سےہے ان کی چالوں میں نئی سی چلن
نئی آہٹ اور نئی دھنک
آہ! وہ دھنکتی آہٹ
آہ! وہ گلاب چہرا
میں دیکھوں اسے اجنبی بن کر
اور چپکوں اسےخوشبو بن کر
یہ میری پیاسی آنکھیں
بجھتی نہیں پیاس بغیر اسے دیکھے
میری تشنگی اس کی شراب دید کی منتظر
آج کا موسم کتنا پیارا
پر وہ آج اپنے شہر میں

نظر عرفان




کھڑکیاں KHIRKIYAN


کھڑکیاں

کھڑکیوں کے سہارے جو میں نے تجھے دیکھا اجنبی بن کر
 تجھے یہ بھی خبر نہیں ترےگھر کے ساۓ ترا یار چھپا ہے
—-
اور جو میں نے دیکھی تری عبادت نماز کھڑکيوں سے
کاش! تری اس عبادت میں مری چاہت کی دعا  ہو
—-
کھڑکیاں کھلی چھوڑ کر تم مجھ  پہ  یہ ظلم  نہ کرو
اب تم سےبس یہی التجا ہے کہ پردہ گرا کر  رکھنا
—–
اے جھروکہ ترا نام بہت سنا ہےعشق کی داستانوں میں
جانو تو، ان کھڑکیوں نےتم ہی سےسیکھا ہے جھروکھا درشن
—
مرے اس فرسودہ قلم سے تری  ان حسیں اداؤں  کی  تعریف
 حسینائیں اور بھی امید میں کہ مرے لیےبھی کچھ لکھا جاۓ



پیار لفظوں میں Payar Lafzon Mn



پیار لفظوں میں؟
پیار لفظوں میں؟
پیار لفظوں میں کہاں
یہ کون بتائے مجھے
شاید سلمی بتا پائے مجھے
یہ امید ہی نہیں
کہ شبانہ بتا پائے مجھے!
آج حبیبہ آئیگی
اس ندی کے کنارے، باغیچہ میں
میں اس سے پوچھوں گا
کیا تم بتا پاؤگی
پیار کیا ہوتا ہے
پیار کیوں ہوتا ہے!
وہ شرمائے گی
کچھ بتائے گی، کچھ نہ
پھر بولے گی!
پیار لفظوں میں کہاں؟
یارو! کون بتائے مجھے
جب سلمی ملے گی اپنی وادی میں
یہ مجھے ضرور بتائے گی
کہ پیار دل میں؟ نہ
پیار احساسوں میں؟ نہ
پیار آنکھوں میں؟ نہ
پیار جسموں میں؟ نہ
پر ہاں
 پیارہوتا ہے
پرمیں کچھ بتا نہ پاؤں گی!
پر پیار لفظوں میں کہاں؟
وہ پتھر!
میں اس پتھر کو بھولوں  کیسے
جہاں بیتے مرے پیار بھرے چند لمحے، چند گھڑی!
کیا وہ یاد کر پائیگی؟
اور یہ بتا پائیگی
پیار لفظوں میں تو نہیں
پر پیار ہوتا ہے
اس میں کچھ بات ہی ایسی ہے
چاہوں! پر  بتا  نہ پاؤں میں
کون  بتاۓ مجھے
یہ سچ ہے، زندگی میں
کسی کو کسی سے
 جب کچھ کچھ ہوتا ہے،
اشاروں میں، کنایوں میں،
آنکھوں میں
پھر آنکھوں آنکھوں میں
دلوں میں، پھر دل میں اتر کر
جسم میں، روح میں
پھر روحوں میں
اور اشک بن کر،  اشکوں میں
کبھی خوابیدہ، کبھی نیم خوابیدہ
زندگی میں
زندگی میں جب یہ ہوتا ہے
جب پیار ہوتا ہے
پیار لفظوں میں؟
پیار لفظوں میں کہاں


نظر عرفان    

Friday, February 1, 2019

گلی GALI





 آج تم نظر آئیں مرے شہر کی اک گلی میں 
میں ڈھونتا رہا تجھے ترے گھر کی گلی  میں
-
اک خوبصورت لڑکی  روزنکلتی ہے مری گلی سے
میں چاہتا  ہوں کچھ کہوں پروہ ذرا مڑ کر تو دیکھے
-
خدا کی قسم تری سلوک  میں کوئی کمی  نہ دکھی
بس اک شکایت اپنے سے مرے خلوص  کی
--
گلی گلی میں شور ہے مری بے وفائی کی
کوئی  تو ا سےپوچھے اس کی چاہت کی
۔۔ 

اس کا کیا   ہوگا جس کا  دل ٹوٹا  تری  بے وفائی سے
اگر تم وفا کی امید  رکھتی ہو تو اتنی بے وفا کیوں ہو

-
تری گھرکی گلیاں بھی تری  گذر کی تلاش میں رہتی ہیں
تم  ذرا  سلیقہ سے  نظر گرا کرچھپ چھپا کرآیا جایا  کرو
-
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں اک گھر بنانے میں
تم کیوں نہیں سوچتی  اپنا گھر بسانے میں



دیارشہر Dayare Shahar



   دیارشہر 

آج کی شام
دیار شہر کے نام
اور میں
گلستان خسرو سے دیارمیر تک
لیتے بلبل بنگال کے نام
تجھے ڈھونڈھا
اور ڈھونڈھتا رہا
اس زندگی کے میلے میں
میں اکیلا
تھیں یہاں ساری مہ جبیں
ماہ رخ بھی تھیں، ماہ پرور بھی
گل و بلبل کی طرح
 ہنستے ہنساتے
 کھلتے
مختلف رنگوں میں، بکھیرتے رنگین ادائیں
پر نہ دکھی تو
میں دور دور دیکھتا رہا
شاید تو بھی ہو یہاں
کہ
ان دنوں تیرا مسکن
ہے اسی علمی باغچہ کہ کنارے
 اور تو بھی آئی ہو
اس علم و ادب کہ میلے میں
ہاں!
تجھے پایا
ذرا دور
شاید تم ہی ہو
قد وہی، رنگ وہی
اور وہی لباس سبز آبی- جو ہے تری پسند
گل رخ، کھلتا بدن، اس چمن میں
ہاں تم ہو،
 شاید تم ہی ہو!
میں بڑھا تری جانب
سنبھل کر، اپنے کوسنبھالتے
باؤلا بن کر
 یا یہ میری فطرت
اب کچھ نہ دکھ  رہا تھا مجھے
یہ تھا دیوانگی کا عالم
ترا خاکہ مرے ذھن میں
تھیں اوربھی حسینائیں اس حسین میلے میں
ماہ پارو بھی تھی، مہ جبیں بھی تھی
ماہ رخ بھی تھی
اور نہ جانے تھیں کون کون
کتنوں کے لوں میں نام
 پر ذرا دور!
تری مشابہ -  کوئی اور یا تو ہی!
میں چلتا رہا تری جانب
دیکھتا رہا - - - !
ارے
ہاۓ!
پر نہ وہ  بات تجھ والی!
نہ ادا تمہاری والی، نہ وہ باؤلا پن!
منتظر تھا ترے سلام کا
پر نہ وہ سلام
نہ وہ شناسائی
ارے !
تو نہ تھی
اور، تو نہ تھی
حسرت بھری نگاھوں کے ساتھ
چل پڑا !
پڑی نگاہ گلستان غالب پہ
کیا خوب فرمایا مرزا نوشہ نے!
عشق نے  غالب   نکما   کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے  کام  کے
 
"نظر عرفان"



مصائب Masaib


مصائب
کوئی بات نہیں
زندگی میں مصائب آئیں گے
چٹان بن کر
 کبھی ہوا کے جھونکوں کی طرح
کبھی طوفان بن کر
اور لگ جائیں گے کنارا
سمندر کی لہروں کی طرح
پھر زندگی ہوگی وہی، سمندر کے ٹھراؤ کی طرح
اور ہم بھی ہوں گے وہی اور آپ بھی
ہوگا گلاب وہی، رنگ گلاب وہی، خوشبوۓ گلاب وہی
اور ہوگی بلبل کی ردا بھی وہی
چڑیوں کی چہک بھی وہی
پھولوں کی مہک بھی وہی
میں بھی ہوں گا وہی، ہوگا میرا پیار بھی وہی،
میری محبت بھی وہی
اور رشتہ جو تھا وہ بھی ہوگا وہی
گلاب کی طرح
آہ! کوئی بات نہیں
زندگی میں مصائب آئیں گے

نظر عرفان